ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گائے کے نام پر مسلم نوجوانوں کا ایک کے بعد ایک قتل ؛ بے قابو ہجوم کے تشدد کے خلاف صدر مکھرجی نے توڑی چپی

گائے کے نام پر مسلم نوجوانوں کا ایک کے بعد ایک قتل ؛ بے قابو ہجوم کے تشدد کے خلاف صدر مکھرجی نے توڑی چپی

Sun, 02 Jul 2017 00:58:49    S.O. News Service

 نئی دہلی یکم جولائی (ایس او نیوز/جے این). صدر پرنب مکھرجی نےبے قابو ہجوم کی طرف سے کھلے عام کئے جارہے قتل  پر بالاخر اپنی چپی توڑ دی اور حال میں ہوئے مختلف وااقعات پر  انتہائیتشویش کا اظہار کیا. صدر نے بے قابو ہجوم کی مسلسل بڑھتی ہوئی  غنڈہ گردی کی جانب براہ راست اشارہ کرتے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہمارے نظام کے بنیادی اُصولوں کے تئیں ہم چوکنا ہیں؟ پرنب نے کہا کہ اگر ہم ایسے  واقعات پر چوکنا نہیں ہوں گے تو ہماری اگلی نسل ہم  سے حساب مانگےگي کہ ہم نے کیا کیا ؟

صدر پرنب مکھرجی کے اس  تبصرہ کو  صاف طور پر  بیف تنازعہ کو لے کرمسلسل ہورہے مسلم نوجوانوں کے قتل کے واقعات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔صدر پرنب مکھرجی نے جواہر لال نہرو کی طرف سے قائم کانگریس کے اخبار نیشنل ہیرالڈ کے آزادی کے 70 سال پر شائع خصوصی ایڈیشن کی لانچنگ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئے دن اخبارات میں بے قابو ہجوم کی طرف سے قتل کے واقعات سامنے آ رہے ہیں. ایسے میں یہ سوال اٹھانا لازمی ہے کہ کیا ہم اتنے چوکنا ہیں کہ ہم اپنے آئین کے بنیادی اصولوں پر قائم  ہیں ؟

پرنب نے میڈیا اور اخبارات کے ایڈیٹرز کی خصوصی بیداری کو جمہوریت میں ناگزیر بتاتے ہوئے کہا کہ آپ کا کام کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے. کیونکہ جمہوریت کی بنیاد آپ ہیں اور اگر میڈیا اور عام شہری چوکنا ہیں تو وہ اس طرح کے تاریکی کے خلاف سب سے بڑی مزاحمی طاقت ہیں. صدر نے کہا کہ کھانے پینے سمیت دیگر مسائل کے نام پر ہورہے ظلم  و زیادتی   پر نہ بولتے ہوئے یہی کہیں گے کہ ہمیں اگر چوکنا ہونا ہے تو بھوک، غربت اور سماجی غیر مساوات کے خلاف آواز اُٹھانا  چاہئے. انہوں نے ملک میں تمام مذہب  اور فرقوں کے ساتھ علاقائی اور لسانی تنوع کے باوجود لوگوں کی ایک قوم کی حیثیت سے بدیہی زندگی کو آئین کا انمول دین قرار دیا.

 پرنب نے اس دوران آزادی کی تحریک میں نیشنل ہیرالڈ اخبار کے عظیم  کردار کا بھی ذکر کیا. کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اس موقع پر صدر کو نیشنل ہیرالڈ کے 70 سال کے خصوصی ایڈیشن کی اشاعت کی  پہلی کاپی سونپنے کے بعد اپنے   صدارتی خطاب میں کہا کہ ملک میں مسلسل بڑھ رہی عدم برداشت اور دکھاوے کے خلاف کھڑے ہونے کی ضرورت ہے. بی جے پی اور سنگھ کا نام لئے بغیر سونیا نے نشانہلگاتے ہوئے کہا کہ جن کو  آزادی کی تاریخ سے کوئی سروکار نہیں رہا وہ ہماری آزادی کے عظیم شخصیات کی وراثت کو مٹانے یا گھٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں. ساتھ ہی جو ان کے خیالات سے متفق نہیں ہے ان کو  دباؤ کے ذریعے یا دوسرے ہتھکنڈوں کے ذریعے خاموش کیا جا رہا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت میں پریس کی آواز کو بھی دبایا جا رہا ہے اور اسے اپنا ہمنوا بنایا جا رہا ہے. سونیا نے کہا کہ ہم کیا کھائیں ، کیا پہنیں، اورکس سے ملے ، اس کو کوئی اور طئے کرے ایسا نظام بنانے کی کوشش ہو رہی ہے. ایسے میں موجودہ حالات میں ملک ایک بار پھر دوراہے پر کھڑاہے اور اگر اب ہم اپنی آواز بلندنہیں کریں گے تو ہماری خاموشی کو  رضامندی مانا جائے گا۔


Share: